25

یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں شکست لیکن ان کے سیاسی سفر کے بارے میں وہ باتیں جو شاید آپ کو معلوم نہیں


اسلام آباد (ڈیلی پریس کانفرنس)سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے رہنماء یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں شکست دے کر صادق سنجرانی دوبارہ چیئرمین سینٹ بن گئے ہیں لیکن یوسف رضا گیلانی کے سیاسی سفر کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں،ان کا سیاسی سفرضلع کونسل سے شروع ہوا۔
یوسف رضا گیلانی نے 9 جون 1952 میں ملتان کے سیاسی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ وہ1983کے بلدیاتی انتخابات میں سید فخرامام کوشکست دے کرچیئرمین ضلع کونسل منتخب ہوئے۔یوسف رضا گیلانی نے1985 میں غیرجماعتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے محمد خان جونیجو کی کابینہ میں ہائوسنگ و تعمیرات اور ریلوے کے وزیر رہے۔سال1988 میں یوسف رضا گیلانی نے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیارکی اورملتان سے عام انتخابات میں نوازشریف کو شکست دی۔یوسف رضا گیلانی 1990 میں تیسری اور1993 میں چوتھی بارپیپلزپارٹی کی سیٹ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔سال1993 میں بینظیرحکومت میں یوسف رضا گیلانی اسپیکرقومی اسمبلی کے عہدے پرفائزہوئے۔ 2008کے انتخابات میں کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی پاکستان کے 18 ویں وزیراعظم منتخب ہوئے۔ وہ4 سال ایک ماہ اور ایک دن تک وزیراعظم کے عہدے پرفائزرہے۔یوسف رضا گیلانی کو پاکستان کے طویل مدت تک وزیراعظم رہنے کااعزاز حاصل ہے۔
2012 میں یوسف رضا گیلانی کواس وقت کے صدرآصف علی زرداری کےخلاف مقدمات کھولنے کےلیے سوئس حکومت کوخط نہ لکھنے پرسپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں تابرخواست عدالت چند سیکنڈ کی سزا سنائی اور وہ پانچ سال کےلیے نااہل ہوگئے۔طویل سیاسی سفرکے بعد یوسف رضا گیلانی نے اپنا نیا سیاسی سفرایوان بالا سے شروع کیا۔ ۔وہ عبدالحفیظ شیخ کو پانچ ووٹوں سے شکست دے کر سینیٹر منتخب ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں